Homeپچیس سالہ پرانا خواب

 

 

پچیس سالہ پرانا خواب

 

wait for school



 

 
”ماضی میں بچوں کو سکول پہنچنے کے لیے 20سے 25کلو میٹر کا راستہ پیدل چل کرطے کرنا پڑتاتھا۔اب انھیں یہ سہولت اپنے گھرکے قریب دستیاب ہے۔مجھے خوشی ہے کہ اس چھوٹے سے دیہات کی لڑکیاں اب پڑھ سکتی ہیں اور ان کے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔“ ”ہمارا دُورافتادہ دیہات بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔ 2013 میں ہمیں دوبارامید ملی جب PGEBP نے ہمارے دیہات میں ایک سروے ٹیم بھیجی اور لسبیلہ میں لڑکیوں کے سکول کی تعمیر کی منظوری ہوگئی۔”ماضی میں بچوں کو سکول پہنچنے کے لیے 20سے 25کلو میٹر کا راستہ پیدل چل کرطے کرنا پڑتاتھا۔اب انھیں یہ سہولت اپنے گھرکے قریب دستیاب ہے۔مجھے خوشی ہے کہ اس چھوٹے سے دیہات کی لڑکیاں اب پڑھ سکتی ہیں اور ان کے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔“

65 سالہ محمد جعفر کئی دہائیوں سے یہ خواب دیکھ رہاتھا ۔”25سال سے میں اپنے علاقے میں سکول قائم کرنے کی کوشش کررہا ہوںلیکن کچھ نہ ہوپایا۔کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔پھر 2013 میں PGEBP نے لڑکیوں کا سکول تعمیر کرنے کے اس خیال کی حمایت کی اور بلآخر یہ ممکن ہوگیا۔“

 

”ہمارا دُورافتادہ دیہات بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔2013میں ہمیں دوبارامید ملی جب PGEBPنے ہمارے دیہات میں ایک سروے ٹیم بھیجی اور لسبیلہ میں لڑکیوں کے سکول کی تعمیر کی منظوری ہوگئی۔”ماضی میں بچوں کو سکول پہنچنے کے لیے 20سے 25کلو میٹر کا راستہ پیدل چل کرطے کرنا پڑتاتھا۔اب انھیں یہ سہولت اپنے گھرکے قریب دستیاب ہے۔مجھے خوشی ہے کہ اس چھوٹے سے دیہات کی لڑکیاں اب پڑھ سکتی ہیں اور ان کے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔“

اس سکول میں لڑکوں کو بھی داخلہ دیا گیا اور یہ سکول مذکورہ پراجیکٹ کے تحت کمیونٹی کی مدد سے تعمیر ہونے والے 141سکولوں میں سے ایک تھا۔اس اقدام کے ذریعے PGEBP نے کمیونٹی کی بھرپور شرکت سے صنف سے پاک مخلو ط تعلیم کے سکول قائم کرنے کی حکومتی پالیسی کی حمایت کی۔کمیونٹی ان سکولوں کے انتظام وانصرام میں مصروف کار ہے تاکہ سکول، بچوں اوراساتذہ کے لیے مقامی حمایت اورتحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔”ماضی میں بچوں کو سکول پہنچنے کے لیے 20 سے 25 کلو میٹر کا راستہ پیدل چل کرطے کرنا پڑتا تھا۔ اب انھیں یہ سہولت اپنے گھرکے قریب دستیاب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس چھوٹے سے دیہات کی لڑکیاں اب پڑھ سکتی ہیں اور ان کے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔“